کھینچے ایذا ہمیشہ کس کی بلا

دیوان دوم غزل 758
چاک کر سینہ دل میں پھینک دیا
کھینچے ایذا ہمیشہ کس کی بلا
تم کو جیتا رکھے خدا اے بتاں
مر گئے ہم تو کرتے کرتے وفا
اٹھ گیا میر وہ جو بالیں سے
پھر مری جان مجھ میں کچھ نہ رہا
میر تقی میر