کھنچا جائے ہے دل کسو کی طرف

دیوان پنجم غزل 1654
نظر کیوں گئی رو و مو کی طرف
کھنچا جائے ہے دل کسو کی طرف
نہ دیکھو کبھی موتیوں کی لڑی
جو دیکھو مری گفتگو کی طرف
اگر آرسی میں صفائی ہے لیک
نہیں کرتی منھ اس کے رو کی طرف
چڑھے نہ کہیں کود یہ مغز میں
نہ کر شانہ تو گل کی بو کی طرف
اسے ڈھونڈتے میر کھوئے گئے
کوئی دیکھے اس جستجو کی طرف
میر تقی میر