کچھ ہمارا اسی میں وارا تھا

دیوان چہارم غزل 1336
جان اپنا جو ہم نے مارا تھا
کچھ ہمارا اسی میں وارا تھا
کون لیتا تھا نام مجنوں کا
جب کہ عہد جنوں ہمارا تھا
کوہ فرہاد سے کہیں آگے
سر مرا اور سنگ خارا تھا
ہم تو تھے محو دوستی اس کے
گوکہ دشمن جہان سارا تھا
لطف سے پوچھتا تھا ہر کوئی
جب تلک لطف کچھ تمھارا تھا
آستاں کی کسو کے خاک ہوا
آسماں کا بھی کیا ستارہ تھا
پائوں چھاتی پہ میری رکھ چلتا
یاں کبھو اس کا یوں گذارا تھا
موسم گل میں ہم نہ چھوٹے حیف
گشت تھا دید تھا نظارہ تھا
اس کی ابرو جو ٹک جھکی ایدھر
قتل کا تیغ سے اشارہ تھا
عشق بازی میں کیا موئے ہیں میر
آگے ہی جی انھوں نے ہارا تھا
میر تقی میر