کچھ ٹھہرتی ہی نہیں کوئی کہے تو کیا کہے

دیوان اول غزل 632
شوخ عاشق قد کو تیرے سرو یا طوبیٰ کہے
کچھ ٹھہرتی ہی نہیں کوئی کہے تو کیا کہے
کیا تفاوت ہے بڑے چھوٹے میں گر سمجھے کوئی
کیا عجب ہے مشک کو سقا اگر دریا کہے
میر تقی میر