کچھ اس کی ہم نے پائی نہ رفتار کی روش

دیوان چہارم غزل 1404
اس کا خیال آوے ہے عیار کی روش
کچھ اس کی ہم نے پائی نہ رفتار کی روش
کیا چال ہے گی زہر بھری روزگار کی
سب اس گزندے کی ہے سیہ مار کی روش
وہ رفت و خیز گرم تو مدت سے ہوچکی
رہتے ہیں اب گرے پڑے بیمار کی روش
جاتے ہیں رنگ و بوے گل و آب جو چلے
آئی نہ خوش ہمیں تو یہ گلزار کی روش
مائل ہوا ہے سرو گلستاں کا دل بہت
کچھ آگئی تھی اس میں قد یار کی روش
زندان میں جہاں کے بہت ہیں خراب حال
کرتے ہیں ہم معاش گنہگار کی روش
یوں سر بکھیرے عشق میں پھرتے نہیں ہیں میر
اظہار بھی کریں ہیں تو اظہار کی روش
میر تقی میر