کون ایسے محروم غمیں کا ہم راز و محرم ہے اب

دیوان پنجم غزل 1581
دل کے گئے بیکس کہلائے ایسا کہاں ہمدم ہے اب
کون ایسے محروم غمیں کا ہم راز و محرم ہے اب
سینہ زنی سے غم زدگی ہے سر دھننا ہے رونا ہے
دل جو ہمارا خون ہوا ہے اس سے بلا ماتم ہے اب
سن کر حال کسو کے دل کا رونا ہی مجھ کو آتا تھا
یعنی کبھو جو کڑھتا تھا میں وہ رونا ہر دم ہے اب
زردی چہرہ تن کی نزاری بیماری پھر چاہت ہے
دل میں غم ہے مژگاں نم ہیں حال بہت درہم ہے اب
دیکھیں دن کٹتے ہیں کیونکر راتیں کیونکے گذرتی ہیں
بیتابی ہے زیادہ زیادہ صبر بہت کم کم ہے اب
عشق ہمارا آہ نہ پوچھو کیا کیا رنگ بدلتا ہے
خون ہوا دل داغ ہوا پھر درد ہوا پھر غم ہے اب
ملنے والو پھر ملیے گا ہے وہ عالم دیگر میں
میر فقیر کو سکر ہے یعنی مستی کا عالم ہے اب
میر تقی میر