کوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں

دیوان اول غزل 359
موئے سہتے سہتے جفاکاریاں
کوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں
ہماری تو گذری اسی طور عمر
یہی نالہ کرنا یہی زاریاں
فرشتہ جہاں کام کرتا نہ تھا
مری آہ نے برچھیاں ماریاں
گیا جان سے اک جہاں لیک شوخ
نہ تجھ سے گئیں یہ دل آزاریاں
کہاں تک یہ تکلیف مالا یطاق
ہوئیں مدتوں نازبرداریاں
خط و کاکل و زلف و انداز و ناز
ہوئیں دام رہ صدگرفتاریاں
کیا دردوغم نے مجھے ناامید
کہ مجنوں کو یہ ہی تھیں بیماریاں
تری آشنائی سے ہی حد ہوئی
بہت کی تھیں دنیا میں ہم یاریاں
نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں
کھنچیں میر تجھ سے ہی یہ خواریاں
میر تقی میر