کوئی ایسا ستم دنیا میں اے صیاد کرتا ہے

دیوان دوم غزل 1022
چمن کو یاد کر مرغ قفس فریاد کرتا ہے
کوئی ایسا ستم دنیا میں اے صیاد کرتا ہے
ہوا خانہ خراب آنکھوں کا اشکوں سے تو برجا ہے
رہ سیلاب میں کوئی بھی گھر بنیاد کرتا ہے
ملایا خاک کر دامن سے اشکوں میں ڈبایا پھر
مرے ہاتھوں کی تردستی گریباں یاد کرتا ہے
ابھر اے نقش شیریں بے ستوں اوپر تماشا کر
کہ کارستانیاں تیرے لیے فرہاد کرتا ہے
میر تقی میر