کم اتفاق پڑتے ہیں یہ اتفاق میں

دیوان چہارم غزل 1449
ہم سے اسے نفاق ہوا ہے وفاق میں
کم اتفاق پڑتے ہیں یہ اتفاق میں
شاید کہ جان و تن کی جدائی بھی ہے قریب
جی کو ہے اضطراب بہت اب فراق میں
عازم پہنچنے کے تھے دل و عرش تک ولے
آیا قصور اپنے ہی کچھ اشتیاق میں
احراق اپنے قلب کا رونے سے کب گیا
پانی کی چار بوندیں ہیں کیا احتراق میں
تحصیل علم کرنے سے دیکھا نہ کچھ حصول
میں نے کتابیں رکھیں اٹھا گھر کے طاق میں
دم ناک میں بقول زناں عاشقوں کے ہیں
ہلنا بلا ہے موتی کا اس کے بلاق میں
اک نور گرم جلوہ فلک پر ہے ہر سحر
کوئی تو ماہ پارہ ہے میر اس رواق میں
میر تقی میر