کعبہ و دیر کے ایوانوں کے گرے پڑے ہیں در کے در

دیوان پنجم غزل 1610
عشق خدائی خراب ہے ایسا جس سے گئے ہیں گھر کے گھر
کعبہ و دیر کے ایوانوں کے گرے پڑے ہیں در کے در
حج سے جو کوئی آدمی ہو تو سارا عالم حج ہی کرے
مکے سے آئے شیخ جی لیکن وے تو وہی ہیں خر کے خر
رنج و تعب میں مرتے دیکھے ہم نے ممسک دولت مند
جی کے جی بھی عبث جاتے ہیں ان لوگوں کے زر کے زر
مسلم و کافر کے جھگڑے میں جنگ و جدل سے رہائی نہیں
لوتھوں پہ لوتھیں گرتی رہیں گی کٹتے رہیں گے سر کے سر
سخت مصیبت عشق میں یہ ہے جانیں چلی جاتی ہیں لیک
ہاتھ سروں پر ماریں گے تو بند رہیں گے گھر کے گھر
کب سے گرمی عشق نے میرے چشمۂ چشم کو خشک کیا
کپڑے گلے سب تن کے لیکن وے ہیں اب تک ترکے تر
نکلے اب کے قفس میں شاید کوئی کلی تو نکلے میر
سارے طیر شگفتہ چمن کے ٹوٹے گئے وے پر کے پر
میر تقی میر