کس کے ہوں کس سے کہیں کس کنے فریاد کریں

دیوان اول غزل 332
چاہتے ہیں یہ بتاں ہم پہ کہ بیداد کریں
کس کے ہوں کس سے کہیں کس کنے فریاد کریں
ایک دم پر ہے بنا تیری سو آیا کہ نہیں
وہ کچھ اس زندگی میں کر کہ تجھے یاد کریں
کعبہ ہوتا ہے دوانوں کا مری گور سے دشت
مجھ سے دو اور گڑیں یاں تو سب آباد کریں
ہم تو راہب نہیں ہیں واقف رسم سجدہ
ہیں کدھر شیخ حرم کچھ ہمیں ارشادکریں
ریختہ خوب ہی کہتا ہے جو انصاف کرو
چاہیے اہل سخن میر کو استاد کریں
میر تقی میر