کس طرح آفتاب نکلے گا

دیوان اول غزل 147
وہ جو پی کر شراب نکلے گا
کس طرح آفتاب نکلے گا
محتسب میکدے سے جاتا نہیں
یاں سے ہوکر خراب نکلے گا
یہی چپ ہے تو درد دل کہیے
منھ سے کیونکر جواب نکلے گا
جب اٹھے گا جہان سے یہ نقاب
تب ہی اس کا حجاب نکلے گا
عرق اس کے بھی منھ کا بو کیجو
گر کبھو یہ گلاب نکلے گا
آئو بالیں تلک نہ ہو گی دیر
جی ہمارا شتاب نکلے گا
دفتر داغ ہے جگر اس بن
کسو دن یہ حساب نکلے گا
تذکرے سب کے پھر رہیں گے دھرے
جب مرا انتخاب نکلے گا
میر دیکھوگے رنگ نرگس کا
اب جو وہ مست خواب نکلے گا
میر تقی میر