کسو سے کام نہیں رکھتی جنس آدم کی

دیوان اول غزل 468
بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کی
کسو سے کام نہیں رکھتی جنس آدم کی
کوئی ہو محرم شوخی ترا تو میں پوچھوں
کہ بزم عیش جہاں کیا سمجھ کے برہم کی
ہمیں تو باغ کی تکلیف سے معاف رکھو
کہ سیر و گشت نہیں رسم اہل ماتم کی
تنک تو لطف سے کچھ کہہ کہ جاں بلب ہوں میں
رہی ہے بات مری جان اب کوئی دم کی
گذرنے کو تو کج و واکج اپنی گذرے ہے
جفا جو ان نے بہت کی تو کچھ وفا کم کی
گھرے ہیں درد و الم میں فراق کے ایسے
کہ صبح عید بھی یاں شام ہے محرم کی
قفس میں میر نہیں جوش داغ سینے پر
ہوس نکالی ہے ہم نے بھی گل کے موسم کی
میر تقی میر