کر جائوں گا سفر ہی میں دنیا سے تب تلک

دیوان اول غزل 257
بالیں پہ میری آوے گا تو گھر سے جب تلک
کر جائوں گا سفر ہی میں دنیا سے تب تلک
اتنا دن اور دل سے طپش کرلے کاوشیں
یہ مجہلہ تمام ہی ہے آج شب تلک
نقاش کیونکے کھینچ چکا تو شبیہ یار
کھینچوں ہوں ایک ناز ہی اس کا میں اب تلک
شب کوتہ اور قصہ مری جان کا دراز
القصہ اب کہا کروں تجھ سے میں کب تلک
باقی یہ داستان ہے اور کل کی رات ہے
گر جان میری میر نہ آپہنچے لب تلک
میر تقی میر