کج طبیعت جو مخالف ہیں انھوں سے جا سمجھ

دیوان دوم غزل 942
ہم سے کیوں الجھا کرے ہے آ سمجھ اے ناسمجھ
کج طبیعت جو مخالف ہیں انھوں سے جا سمجھ
یار کی ان بھولی باتوں پر نہ جا اے ہم نشیں
ایک فتنہ ہے وہ اس کو آہ مت لڑکا سمجھ
خوبرو عشاق سے بد پیش آتے ہی سنے
گرچہ خوش ظاہر ہیں یہ پر ان کو مت اچھا سمجھ
باغباں بے رحم گل بے دید موسم بے وفا
آشیاں اس باغ میں بلبل نے باندھا کیا سمجھ
میں جو نرمی کی تو دونا سر چڑھا وہ بدمعاش
کھانے ہی کو دوڑتا ہے اب مجھے حلوا سمجھ
دور سے دیکھی جو بدحالی وہیں سے ٹل گیا
دو قدم آگے نہ آیا مجھ کو وہ مرتا سمجھ
میر کی عیاریاں معلوم لڑکوں کو نہیں
کرتے ہیں کیا کیا ادائیں اس کو سادہ سا سمجھ
میر تقی میر