کتنا جی عاشق بیتاب کا مرجاتا ہے

دیوان سوم غزل 1290
یار کا جور و ستم کام ہی کر جاتا ہے
کتنا جی عاشق بیتاب کا مرجاتا ہے
جیسے گرداب ہے گردش مری ہر چار طرف
شوق کیا جانے لیے مجھ کو کدھر جاتا ہے
جوشش اشک میں ٹک ٹھہرے رہو پیش نظر
اب کوئی پل میں یہ سیلاب اتر جاتا ہے
زرد رخسار پہ کیوں اشک نہ آوے گل رنگ
آگے سے آنکھوں کے وہ باغ نظر جاتا ہے
زہ گریباں کی ہے خونناب سے تر ہوتی نہیں
سارا زنجیرئہ دامن بھی تو بھر جاتا ہے
واعظ شہر تنک آب ہے مانند حباب
ٹک ہوا لگتی ہے اس کو تو اپھر جاتا ہے
کیا لکھوں بخت کی برگشتگی نالوں سے مرے
نامہ بر مجھ سے کبوتر بھی چپر جاتا ہے
آن اس دلبر شیریں کی چھری شہد کی ہے
عاشق اک آن ہی میں جی سے گذر جاتا ہے
ہر سحر پیچھے اس اوباش کے خورشید اے میر
ڈھال تلوار لیے جیسے نفر جاتا ہے
میر تقی میر