کب ہے ویسی مواجہہ کرلو

دیوان سوم غزل 1226
آرسی اس کے سامنے دھرلو
کب ہے ویسی مواجہہ کرلو
اس کی تیغ ستم بلند ہوئی
جی ہے مرنے کو تو چلو مرلو
درپئے خوں ہیں میرے خورد و کلاں
یہ وبال اپنے کوئی سر پر لو
کچھ طرح ہو کہ بے طرح ہو حال
عمر کے دن کسو طرح بھرلو
کیا بلاخیز جا ہے کوچۂ عشق
تم بھی یاں میر مول اک گھر لو
میر تقی میر