کبھو کے دن ہیں بڑے یاں کبھو کی رات بڑی

دیوان سوم غزل 1287
حدیث زلف دراز اس کے منھ کی بات بڑی
کبھو کے دن ہیں بڑے یاں کبھو کی رات بڑی
کبھو جو گالی ہمیں دیتے ہو کرو موقوف
تمھاری بس ہیں یہی ہم پر التفات بڑی
دخیل ذات نہیں عشق میں کہ میر کو دیکھ
ذلیل کیسے ہیں ان کی ہے گوکہ ذات بڑی
میر تقی میر