کبھو مزاج میں اس کے ہمیں تصرف تھا

دیوان سوم غزل 1080
وفا تھی مہر تھی اخلاص تھا تلطف تھا
کبھو مزاج میں اس کے ہمیں تصرف تھا
جو خوب دیکھو تو ساری وہی حقیقت ہے
چھپانا چہرے کا عشاق سے تکلف تھا
اسیر عشق نہیں بازخواہ خوں رکھتے
ہمارے قتل میں اس کو عبث توقف تھا
نہ پوچھو خوب ہے بدعہدیوں کی مشق اس کو
ہزاروں عہد کیے پر وہی تخلف تھا
جہاں میں میر سے کاہے کو ہوتے ہیں پیدا
سنا یہ واقعہ جن نے اسے تاسف تھا
میر تقی میر