کبریت نمط جن نے لیا مجھ کو جلایا

دیوان سوم غزل 1085
مجھ زار نے کیا گرمی بازار سے پایا
کبریت نمط جن نے لیا مجھ کو جلایا
بیتاب تہ تیغ ستم دیر رہا میں
جب تک نہ گئی جان مجھے صبر نہ آیا
جانا فلک دوں نے کہ سرسبز ہوا میں
گر خاک سے سبزہ کوئی پژمردہ اگایا
اس رخ نے بہت صورتیں لوگوں کی بگاڑیں
اس قد نے قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا
مت راہ سخن دے کہ پھر آپھی تو کہے گا
کیوں میں نے محبت کے عبث منھ کو کھلایا
ہر چند کہ تھی ریجھنے کی جاے ترے لب
پر گالیاں دیں اتنی انھوں سے کہ رجھایا
گردش میں رہا کرتے ہیں ہم دید میں ان کی
آنکھوں نے تری خوب سماں ہم کو دکھایا
کس روز یہ اندوہ جگر سوز تھا آگے
کب شب لب و یارب تھی مری یوں ہی خدایا
دن جی کے الجھنے کے ہی جھگڑے میں کٹے ہے
رات اس کے خیالات سے رہتے ہیں قضایا
کیا کہیے دماغ اس کا کہ گل گشت میں کل میر
گل شاخوں سے جھک آئے تھے پر منھ نہ لگایا
میر تقی میر