کاہش مجھے جو ہے وہی ہوتی ہے شام سے

دیوان دوم غزل 980
برسوں ہوئے گئے ہوئے اس مہ کو بام سے
کاہش مجھے جو ہے وہی ہوتی ہے شام سے
تڑپے اسیر ہوتے جو ہم یک اٹھا غبار
سوجھا نہ ہم کو دیر تلک چشم دام سے
دنبال ہر نگاہ ہے صد کاروان اشک
برسے ہے چشم ابر بڑی دھوم دھام سے
محو اس دہان تنگ کے ہیں کوئی کچھ کہو
رہتا ہے ہم کو عشق میں کام اپنے کام سے
یوسفؑ کے پیچھے خوار زلیخا عبث ہوئی
کب صاحبی رہی ہے مل ایسے غلام سے
لڑکے ہزاروں جھولی میں پتھر لیے ہیں ساتھ
مجنوں پھرا ہے کاہے کو اس ازدحام سے
وہ ناز سے چلا کہیں تو حشر ہوچکے
پھر بحث آپڑے گی اسی کے خرام سے
جھک جھک سلام کرنے سے سرکش ہوا وہ اور
ہو بیٹھے ناامید جواب سلام سے
وے دن گئے کہ رات کو یک جا معاش تھی
آتا ہے اب تو ننگ اسے میرے نام سے
سرگرم جلوہ بدر ہو ہر چند شب کو لیک
کب جی لگیں ہیں اپنے کسو ناتمام سے
دل اور عرش دونوں پہ گویا ہے ان کی سیر
کرتے ہیں باتیں میر جی کس کس مقام سے
میر تقی میر