کام اپنے وہ کیا آیا جو کام ہمارے آوے گا

دیوان چہارم غزل 1339
خوں نہ ہوا دل چاہیے جیسا گو اب کام سے جاوے گا
کام اپنے وہ کیا آیا جو کام ہمارے آوے گا
آنکھیں لگی رہتی ہیں اکثر چاک قفس سے اسیروں کی
جھونکا باد بہاری کا گل برگ کوئی یاں لاوے گا
فتنے کتنے جمع ہوئے ہیں زلف و خال و خد و قد
کوئی نہ کوئی عہد میں میرے سران میں سے اٹھاوے گا
عشق میں تیرے کیا کیا سن کر یار گئی کر جاتے ہیں
یعنی غم کھاتے ہیں بہت ہم غم بھی ہم کو کھاوے گا
ایک نگہ کی امید بھی اس کی چشم شوخ سے ہم کو نہیں
ایدھر اودھر دیکھے گا پر ہم سے آنکھ چھپاوے گا
اب تو جوانی کا یہ نشہ ہی بے خود تجھ کو رکھے گا
ہوش گیا پھر آوے گا تو دیر تلک پچھتاوے گا
دیر سے اس اندیشے نے ناکام رکھا ہے میر ہمیں
پائوں چھوئیں گے اس کے ہم تو وہ بھی ہاتھ لگاوے گا
میر تقی میر