کاش رہتے کسو طرف مر ہم

دیوان چہارم غزل 1439
حال زخم جگر سے ہے درہم
کاش رہتے کسو طرف مر ہم
دلبروں کو جو بر میں کھینچا ٹک
اس ادا سے بہت ہوئے برہم
آپ کو اب کہیں نہیں پاتے
بے خودی سے گئے ہیں کیدھر ہم
دیر و کعبہ گئے ہیں ہم اکثر
یعنی ڈھونڈا ہے اس کو گھر گھر ہم
کہہ سکے کون ہم کو ناہموار
اب تو ہیں خاک سے برابر ہم
کوفت سی کوفت اپنے دل پر ہے
چھاتی کوٹا کیے ہیں اکثر ہم
ابر کرتا ہے اب کمی سی میر
دیکھیں ہیں سوے دیدئہ تر ہم
میر تقی میر