کاش اجل بے وقت ہی پہنچے ایک طرف مرجاویں ہم

دیوان پنجم غزل 1678
چاہ چھپی بے پردہ ہوئی اب یارب کیدھر جاویں ہم
کاش اجل بے وقت ہی پہنچے ایک طرف مرجاویں ہم
اس کی نگہ کی اچپلیوں سے غش کرتے ہیں جگرداراں
کیا ٹھہرے گا دل اپنا جو بجلی سے ڈر جاویں ہم
صبر و قرار جو ٹک ہووے تو بہتر ہیں بے طاقت بھی
ہاتھ رکھے دل ہی پر کب تک اودھر اکثر جاویں ہم
خاک برابر عاشق ہیں اس کوچے میں ناچاری سے
گھر ہوں خانہ خرابوں کے تو اپنے بھی گھر جاویں ہم
میر اپنی سب عمر گئی ہے سب کی برائی ہی کرتے
سر پر آیا جانے کا موسم اب تو بھلا کر جاویں ہم
میر تقی میر