چہرے سے خونناب ملوں گا پھولوں سے گل کھائوں گا

دیوان چہارم غزل 1341
دل کو کہیں لگنے دو میرے کیا کیا رنگ دکھائوں گا
چہرے سے خونناب ملوں گا پھولوں سے گل کھائوں گا
عہد کیے جائوں ہوں اب کے آخر مجھ کو غیرت ہے
تو بھی منانے آوے گا تو ساتھ نہ تیرے جائوں گا
گرچہ نصیحت سب ضائع ہے لیکن خاطر ناصح کی
دل دیوانہ کیا سمجھے گا اور بھی میں سمجھائوں گا
جھک کے سلام کسو کو کرنا سجدہ ہی ہوجاتا ہے
سر جاوے گو اس میں میرا سر نہ فرو میں لائوں گا
سر ہی سے سر واہ یہ سب ہے ہجر کی اس کے کلفت میں
سر کو کاٹ کے ہاتھ پہ رکھے آپھی ملنے جائوں گا
خاک ملا منھ خون آنکھوں میں چاک گریباں تا دامن
صورت حال اب اپنی اس کے خاطرخواہ بنائوں گا
دل کے تئیں اس راہ میں کھو افسوس کناں اب پھرتا ہوں
یعنی رفیق شفیق پھر ایسے میر کہاں میں پائوں گا
میر تقی میر