چھوڑ لذت کے تئیں لے تو فقیری کا مزا

دیوان اول غزل 51
گرچہ سردار مزوں کا ہے امیری کا مزا
چھوڑ لذت کے تئیں لے تو فقیری کا مزا
اے کہ آزاد ہے ٹک چکھ نمک مرغ کباب
تا تو جانے کہ یہ ہوتا ہے اسیری کا مزا
لوہو پیتے ہی مرا اشک نہ منھ کو لاگا
بوسہ جب لے ہے ترے ہونٹوں کی بیری کا مزا
ہم تو گمراہ جوانی کے مزوں پر ہیں میر
حضرت خضرؑ کو ارزانی ہو پیری کا مزا
میر تقی میر