چھانہہ میں جاکے ببولوں کی ہم عشق و جنوں کو رو آئے

دیوان پنجم غزل 1728
کیا کہیے کچھ بن نہیں آتی جنگل جنگل ہو آئے
چھانہہ میں جاکے ببولوں کی ہم عشق و جنوں کو رو آئے
دل کی تلاش میں اٹھ کے گئے تھے شاید یاں پیدا ہو سو
جان کا اپنی گرامی گوہر اس کی گلی میں کھو آئے
آہوے عرفاں صید انھوں کا گر نہ ہوا نقصان کیا
اس عالم سے اس عالم میں کسب کمال کو جو آئے
کچھ کہنے کا مقام نہ تھا وہ وا ہوتا تو کہتے کچھ
آنا نہ آنا یکساں تھا واں ہوتے ادھر ہم گو آئے
سب کہتے تھے چین کرے گا کچھ بھی نہ دیکھا جز سختی
پتھر رکھ کے سرہانے ہم ٹک اس کی گلی میں سو آئے
کیا ہی دامن گیر تھی یارب خاک بسمل گاہ وفا
اس ظالم کی تیغ تلے سے ایک گیا تو دو آئے
سر دینا ٹھہرا کر ہم نے پائوں کو باہر رکھا تھا
ہر سو ہو دشوار ہے پھرنا میر ادھر اب تو آئے
میر تقی میر