چکر مارو جیسے بگولا خاک اڑاتے آتے رہو

دیوان پنجم غزل 1706
عاشق ہو تو اپنے تئیں دیوانہ سب میں جاتے رہو
چکر مارو جیسے بگولا خاک اڑاتے آتے رہو
دوستی جس کو لوگ کہیں ہیں جان سے اس کو خصومت ہے
ہوجاوے جو تم کو کسی سے تا مقدور چھپاتے رہو
دل لگنے کی چوٹ بری ہے اس صدمے سے خدا حافظ
بارے سعی و کشش کوشش سے جی کو اپنے بچاتے رہو
آئی بہار جنوں ہو مبارک عشق اللہ ہمارے لیے
نعل جڑے سینوں پہ پھرو تم داغ سروں پہ جلاتے رہو
شاعر ہو مت چپکے رہو اب چپ میں جانیں جاتی ہیں
بات کرو ابیات پڑھو کچھ بیتیں ہم کو بتاتے رہو
ابر سیہ قبلے سے آیا تم بھی شیخو پاس کرو
تخفیفے ٹک لٹ پٹے باندھو ساختہ ہی مدھ ماتے رہو
کیا جانے وہ مائل ہووے کب ملنے کا تم سے میر
قبلہ و کعبہ اس کی جانب اکثر آتے جاتے رہو
میر تقی میر