چپ ہیں کچھ کہہ سکتے نہیں پر جی میں ہمارے کیا کیا ہے

دیوان چہارم غزل 1521
خواہش دل کی کس سے کہیے محرم تو ناپیدا ہے
چپ ہیں کچھ کہہ سکتے نہیں پر جی میں ہمارے کیا کیا ہے
ہیں متوقع پرسش اس کے ہم جو گرے ہیں بستر پر
رہنا اس بدحالی ہی سے اپنے حق میں اچھا ہے
میر جی کی بیماری دل کو کب سے ہم سب سنتے ہیں
پوچھے کوئی مزاج کو اس کے ان روزوں میں کیسا ہے
میر تقی میر