چپکے تم سنتے ہو بیٹھے اسے کیا کہتے ہیں

دیوان دوم غزل 864
مدعی مجھ کو کھڑے صاف برا کہتے ہیں
چپکے تم سنتے ہو بیٹھے اسے کیا کہتے ہیں
دیکھے خوباں کے بجا دل نہیں رہتا ہرگز
لوگ جو کچھ انھیں کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
عشق کے شہر کی بھی رسم کے ہیں کشتے ہم
درد جانکاہ جو ہو اس کو دوا کہتے ہیں
جی اگر زلفوں کے سودے میں ترے دوں تو نہ بول
پہلی قیمت کے تئیں مشک بہا کہتے ہیں
حسن تو ہے ہی کرو لطف زباں بھی پیدا
میر کو دیکھو کہ سب لوگ بھلا کہتے ہیں
میر تقی میر