چٹکیوں میں رقیب اڑ جاتا

دیوان اول غزل 149
طفل مطرب جو میرے ہاتھ آتا
چٹکیوں میں رقیب اڑ جاتا
خواب میں بھی رہا تو آنے سے
دیکھنے ہی کا تھا یہ سب ناتا
الفت اس تیغ سے تھی بے حد میر
قتل کرتا تو لوہو جم جاتا
میر تقی میر