چاہ نے بدلے رنگ کئی اب جسم سراسر زرد ہوا

دیوان ششم غزل 1792
تھا اندوہ گرہ مدت سے دل میں خوں ہو درد ہوا
چاہ نے بدلے رنگ کئی اب جسم سراسر زرد ہوا
وعدہ خلافی اس ظالم کی کھا گئی میری جان غمیں
گرمی کرے وہ مجھ سے جب تک تب تک میں ہی سرد ہوا
گرد و غبار و دشت و وادی گریے سے میرے یک سو ہیں
رونے کے آگے ان کے تو دریا بھی میر اب گرد ہوا
میر تقی میر