چال ایسی چلا جس پر تلوار چلا کی ہے

دیوان پنجم غزل 1737
جب جل گئے تب ان نے کینے کی ادا کی ہے
چال ایسی چلا جس پر تلوار چلا کی ہے
خلقت مگر الفت سے ہے شورش سینہ کی
چسپاں مری چھاتی سے دن رات رہا کی ہے
ہم لوگوں کے لوہو میں ڈوبی ہی رہی اکثر
اس تیغ کی جدول بھی کیا تیز بہا کی ہے
عشاق موئے پر بھی ہجراں میں معذب ہیں
مدفن میں مرے ہر دم اک آگ لگا کی ہے
صد رنگ بہاراں میں اب کے جو کھلے ہیں گل
یہ لطف نہ ہو ایسی رنگینی ہوا کی ہے
مرنے کو رہے حاضر سو مارے گئے آخر
گو ان نے جفا کی ہے ہم نے تو وفا کی ہے
مایوس ہی رہتے ہیں بیمار محبت کے
اس درد کی مدت تک ہم نے بھی دوا کی ہے
آنا ادھر اس بت کا کیا میری کشش سے ہے
ہو موم جو پتھر تو تائید خدا کی ہے
دامان دراز اس کا جو صبح نہیں کھینچا
اے میر یہ کوتاہی شب دست دعا کی ہے
میر تقی میر