چاروں اور نگہ کرنے میں عالم عالم حسرت تھی

دیوان چہارم غزل 1533
آج ہمیں بیتابی سی ہے صبر کی دل سے رخصت تھی
چاروں اور نگہ کرنے میں عالم عالم حسرت تھی
کس محنت سے محبت کی تھی کس خواری سے یاری کی
رنج ہی ساری عمر اٹھایا کلفت تھی یا الفت تھی
بدنامی کیا عشق کی کہیے رسوائی سی رسوائی ہے
صحرا صحرا وحشت بھی تھی دنیا دنیا تہمت تھی
راہ کی کوئی سنتا نہ تھا یاں رستے میں مانند جرس
شور سا کرتے جاتے تھے ہم بات کی کس کو طاقت تھی
عہد ہمارا تیرا ہے یہ جس میں گم ہے مہر و وفا
اگلے زمانے میں تو یہی لوگوں کی رسم و عادت تھی
خالی ہاتھ سیہ رو ایسے کاہے کو تھے گریہ کناں
جن روزوں درویش ہوئے تھے پاس ہمارے دولت تھی
جو اٹھتا ہے یاں سے بگولا ہم سا ہے آوارہ کوئی
اس وادی میں میر مگر سرگشتہ کسو کی تربت تھی
میر تقی میر