پیش جاتے کچھ نہ دیکھی چشم تر کر رہ گیا

دیوان سوم غزل 1084
میر کل صحبت میں اس کی حرف سرکر رہ گیا
پیش جاتے کچھ نہ دیکھی چشم تر کر رہ گیا
خوبی اپنے طالع بد کی کہ شب وہ رشک ماہ
گھر مرے آنے کو تھا سو منھ ادھر کر رہ گیا
طنز و تعریض بتان بے وفا کے در جواب
میں بھی کچھ کہتا خدا سے اپنے ڈر کر رہ گیا
سرگذشت اپنی سبب ہے حیرت احباب کی
جس سے دل خالی کیا وہ آہ بھر کر رہ گیا
میر کو کتنے دنوں سے رہتی تھی بے طاقتی
رات دل تڑپا بہت شاید کہ مر کر رہ گیا
میر تقی میر