پہ جوش دل میں کبھو آگیا تو طوفاں ہیں

دیوان دوم غزل 898
اگرچہ اب کے ہم اے ابر خشک مژگاں ہیں
پہ جوش دل میں کبھو آگیا تو طوفاں ہیں
صنم پرستی میں اے راہباں نہ کی تقصیر
تم اہل صومعہ سے پوچھو وے مسلماں ہیں
کریں انھوں پہ بھلا کس طرح نظر گستاخ
بتان شہر ہمارے تو دین و ایماں ہیں
چمن میں جاکے بھرو تم گلوں سے جیب و کنار
ہم اپنے دل ہی کے ٹکڑوں سے گل بداماں ہیں
رہے ہیں دیکھ جو تصویر سے ترے منھ کو
ہماری آنکھ سے ظاہر ہے یہ کہ حیراں ہیں
رہا ہے کون سا پردہ ترے ستم کا شوخ
کہ زخم سینہ ہمارے سبھی نمایاں ہیں
شبیہ شکل سا ہے حال ضبط عشق کے بیچ
کہ رنگ روپ ہے سب کچھ ولیک بے جاں ہیں
بنے تو عزت عشاق میں نہ کر تقصیر
کہ ایسے لوگ پیارے عزیز مہماں ہیں
جو ابر دشت میں برسے تو ہم اڑاویں خاک
وہ میر آب ہے ہم یاں کے میر ساماں ہیں
میر تقی میر