پھر ہوچکے وہیں کہیں گھر جاسکے نہ ہم

دیوان پنجم غزل 1682
اس کی گلی میں غش جو کیا آسکے نہ ہم
پھر ہوچکے وہیں کہیں گھر جاسکے نہ ہم
سوئے تو غنچہ ہو کسو گلخن کے آس پاس
اس تنگنا میں پائوں بھی پھیلا سکے نہ ہم
حالانکہ ظاہر اس کے نشاں شش جہت تھے میر
خود گم رہے جو پھرتے بہت پا سکے نہ ہم
میر تقی میر