پھر مر بھی جایئے تو کسو کو خبر نہ ہو

دیوان اول غزل 390
نالہ مرا اگر سبب شور و شر نہ ہو
پھر مر بھی جایئے تو کسو کو خبر نہ ہو
دل پر ہوا سو آہ کے صدمے سے ہو چکا
ڈرتا ہوں یہ کہ اب کہیں ٹکڑے جگر نہ ہو
برچھی سی پار عرش کے گذری نہ عاقبت
آہ سحر میں میری کہاں تک اثر نہ ہو
سمجھا ہوں تیری آنکھ چھپانے سے خوش نگاہ
مدنظر یہ ہے کہ کسی کی نظر نہ ہو
کھینچے ہے دل کو زلف سے گاہے نگہ سے گاہ
حیراں نہ ہووے کوئی تو اس طرز پر نہ ہو
سو دل سے بھی نہ کام چلے اس کے عشق میں
اک دل رکھوں ہوں میں تو کدھر ہو کدھر نہ ہو
جس راہ ہو کے آج میں پہنچا ہوں تجھ تلک
کافر کا بھی گذار الٰہی ادھر نہ ہو
یک جا نہ دیکھی آنکھوں سے ایسی تمام راہ
جس میں بجائے نقش قدم چشم تر نہ ہو
ہر یک قدم پہ لوگ ڈرانے لگے مجھے
ہاں یاں کسو شہیدمحبت کا سر نہ ہو
چلیو سنبھل کے سب یہ شہیدان عشق ہیں
تیرا گذار تاکہ کسو نعش پر نہ ہو
دامن کشاں ہی جا کہ طپش پر طپش ہے دفن
زنہار کوئی صدمے سے زیر و زبر نہ ہو
مضطر ہو اختیار کی وہ شکل دل میں میں
اس راہ ہو کے جائوں یہ صورت جدھر نہ ہو
لیکن عبث نگاہ جہاں کریے اس طرف
امکان کیا کہ خون مرے تا کمر نہ ہو
حیراں ہوں میں کہ ایسی یہ مشہد ہے کون سی
مجھ سے خراب حال کو جس کی خبر نہ ہو
آتا ہے یہ قیاس میں اب تجھ کو دیکھ کر
ظالم جفاشعار ترا رہگذر نہ ہو
اٹھ جائے رسم نالہ و آہ و فغان سب
اس تیرہ روزگار میں تو میر اگر نہ ہو
میر تقی میر