پھر دیکھنا ادھر کو آنکھیں ملا ملاکر

دیوان اول غزل 205
غیروں سے وے اشارے ہم سے چھپا چھپاکر
پھر دیکھنا ادھر کو آنکھیں ملا ملاکر
ہر گام سد رہ تھی بتخانے کی محبت
کعبے تلک تو پہنچے لیکن خدا خدا کر
نخچیرگہ میں تجھ سے جو نیم کشتہ چھوٹا
حسرت نے اس کو آخر مارا لٹا لٹاکر
اک لطف کی نگہ بھی ہم نے نہ چاہی اس سے
رکھا ہمیں تو ان نے آنکھیں دکھا دکھاکر
ناصح مرے جنوں سے آگہ نہ تھا کہ ناحق
گودڑ کیا گریباں سارا سلا سلاکر
اک رنگ پاں ہی اس کا دل خوں کن جہاں ہے
پھبتا ہے اس کو کرنا باتیں چبا چباکر
جوں شمع صبح گاہی یک بار بجھ گئے ہم
اس شعلہ خو نے ہم کو مارا جلا جلاکر
اس حرف ناشنو سے صحبت بگڑ ہی جا ہے
ہر چند لاتے ہیں ہم باتیں بنا بناکر
میں منع میر تجھ کو کرتا نہ تھا ہمیشہ
کھوئی نہ جان تونے دل کو لگا لگاکر
میر تقی میر