پھر جو دیکھا تو کچھ نہیں پیارے

دیوان دوم غزل 969
سیر کی ہم نے ہر کہیں پیارے
پھر جو دیکھا تو کچھ نہیں پیارے
خشک سال وفا میں اک مدت
پلکیں لوہو میں تر رہیں پیارے
یک نظر دیکھنے کی حسرت میں
آنکھیں تو پانی ہو بہیں پیارے
پہنچی ہے ضعف سے یہ اب حالت
جہاں پہنچا رہا وہیں پیارے
تجھ گلی میں رہے ہے میر مگر
دیکھیں ہیں جب نہ تب نہیں پیارے
میر تقی میر