پھر آپھی آپ سوچ کے کہتا ہوں کیا کہوں

دیوان اول غزل 326
آتا ہے دل میں حال بد اپنا بھلا کہوں
پھر آپھی آپ سوچ کے کہتا ہوں کیا کہوں
پروانہ پھر نہ شمع کی خاطر جلا کرے
گر بزم میں یہ اپنا ترا ماجرا کہوں
مت کر خرام سر پہ اٹھالے گا خلق کو
بیٹھا اگر گلی میں ترا نقش پا کہوں
دل اور دیدہ باعث ایذا و نور عین
کس کے تئیں برا کہوں کس کو بھلا کہوں
آوے سموم جاے صبا باغ سے سدا
گرشمہ اپنے سوز جگر کا میں جا کہوں
جاتا ہوں میر دشت جنوں کو میں اب یہ کہہ
مجنوں کہیں ملے تو تری بھی دعا کہوں
میر تقی میر