پنجہ خورشید کا گہا بھی جائے

دیوان چہارم غزل 1530
یارب اس کا ستم سہا بھی جائے
پنجہ خورشید کا گہا بھی جائے
دیکھ رہیے خرام ناز اس کا
پر کسو پا سے گر رہا بھی جائے
درد دل طول سے کہے عاشق
روبرو اس کے جو کہا بھی جائے
حیرت گل سے آب جو ٹھٹھکا
بہے بہتیرا ہی بہا بھی جائے
کیا کوئی اس گلی میں آوے میر
آوے تو لوہو میں نہا بھی جائے
میر تقی میر