پلکوں کی صف کو دیکھ کے بھیڑیں سرک گئیں

دیوان چہارم غزل 1448
خوبی رو و چشم سے آنکھیں اٹک گئیں
پلکوں کی صف کو دیکھ کے بھیڑیں سرک گئیں
چلتے سمندناز کی شوخی کو اس کے دیکھ
گھوڑوں کی باگیں دست سپہ سے اچک گئیں
ترچھی نگاہیں پلکیں پھریں اس کی پھرپھریں
سو فوجیں جو دو رستہ کھڑی تھیں بہک گئیں
بجلی سا مرکب اس کا کڑک کر چمک گیا
لوگوں کے سینے پھٹ گئے جانیں دھڑک گئیں
محبوب کا وصال نہ ہم کو ہوا نصیب
دل سے ہزار خواہشیں سر کو پٹک گئیں
موقوف طور نور کا جھمکا ترا نہیں
چمکا جہاں تو برق سا آنکھیں جھپک گئیں
وحشت سے بھر رہی تھی بزن گہ جہان کی
جانیں بسان طائر بسمل پھڑک گئیں
گرد رہ اس کی دیکھتے اپنے اٹھی نہ حیف
اب منتظر ہو آنکھیں مندیں یعنی تھک گئیں
بھردی تھی چشم ساقی میں یارب کہاں کی مے
مجلس کی مجلسیں نظر اک کرتے چھک گئیں
کیا میر اس کی نوک پلک سے سخن کرے
سرتیز چھریاں گڑتی جگر دل تلک گئیں
میر تقی میر