پلکوں کی صف سے بھیڑیں گئیں منھ کو موڑ موڑ

دیوان اول غزل 230
آشوب دیکھ چشم تری سر رہے ہیں جوڑ
پلکوں کی صف سے بھیڑیں گئیں منھ کو موڑ موڑ
لاکھوں جتن کیے نہ ہوا ضبط گریہ لیک
سنتے ہی نام آنکھ سے آنسو گرے کڑوڑ
زخم دروں سے میرے نہ ٹک بے خبر رہو
اب ضبط گریہ سے ہے ادھر ہی کو سب نچوڑ
گرمی سے بر شگال کی پروا ہے کیا ہمیں
برسوں رہی ہے جان کے رکنے کی یاں مروڑ
بلبل کی اور چشم مروت سے دیکھ ٹک
بے درد یوں چمن میں کسو پھول کو نہ توڑ
کچھ کوہکن ہی سے نہیں تازہ ہوا یہ کام
بہتیرے عاشقی میں موئے سر کو پھوڑ پھوڑ
بے طاقتی سے میر لگے چھوٹنے پران
ظالم خیال دیکھنے کا اس کے اب تو چھوڑ
میر تقی میر