پس ہم نہ برا مانیں تو کون برا مانے

دیوان اول غزل 489
اب ظلم ہے اس خاطر تا غیر بھلا مانے
پس ہم نہ برا مانیں تو کون برا مانے
سرمایۂ صد آفت دیدار کی خواہش ہے
دل کی تو سمجھ لیجے گر چشم کہا مانے
مسدود ہی اے قاصد بہتر ہے رہ نامہ
کیا کیا نہ لکھیں ہم تو جو یار لکھا مانے
ٹک حال شکستہ کی سننے ہی میں سب کچھ ہے
پر وہ تو سخن رس ہے اس بات کو کیا مانے
بے طاقتی دل نے سائل بھی کیا ہم کو
پر میر فقیروں کی یاں کون صدا مانے
میر تقی میر