پر یہ کہا نہ ظالم اس کی نہیں سہی ہے

دیوان سوم غزل 1282
صدگونہ عاشقی میں ہم نے جفا سہی ہے
پر یہ کہا نہ ظالم اس کی نہیں سہی ہے
کرتی پھری ہے رسوا سارے چمن میں مجھ کو
گر کوئی بات دل کی بلبل سے میں کہی ہے
ہے صبح کا سا عرصہ پیری کا اس میں کیا ہو
باقی ہے وقت کتنا فرصت کہاں رہی ہے
درویش جب ہوئے ہم تب ہے ہمیں برابر
کشکول بازگوں ہے یا افسرشہی ہے
جیتے رہے بہت ہم جو یہ ستم اٹھائے
عمر دراز کی سب تقصیر و کوتہی ہے
رونے میں متصل ہے ہونٹوں پہ آہ میری
جاتا نہیں ہے سمجھا یہ بائو کیا بہی ہے
آزار عاشقی میں کاہے کی پھر توقع
ہوجائے یاس جس سے سو رنج یہ وہی ہے
روتا ہمیں نظر کر رہنا کیے کنارہ
چڑھنا ہمارے منھ پہ دریا کی بے تہی ہے
چلاہٹ اس طرح کی جز میر کس سے ہووے
باور نہ ہو تو دیکھو یہ ہو نہ ہو وہی ہے
میر تقی میر