پر یہ تیرا نہ امتحان گیا

دیوان دوم غزل 739
سینکڑوں بیکسوں کا جان گیا
پر یہ تیرا نہ امتحان گیا
واے احوال اس جفاکش کا
عاشق اپنا جسے وہ جان گیا
داغ حرماں ہے خاک میں بھی ساتھ
جی گیا پر نہ یہ نشان گیا
کل نہ آنے میں ایک یاں تیرے
آج سو سو طرف گمان گیا
حرف نشنو کوئی اسے بھی ملا
تب تو میں نے کہا سو مان گیا
دل سے مت جا کہ پھر وہ پچھتایا
ہاتھ سے جس کے یہ مکان گیا
پھرتے پھرتے تلاش میں اس کی
ایک میرا ہی یوں نہ جان گیا
اب جو عیسیٰ ؑ فلک پہ ہے وہ بھی
شوق میں برسوں خاک چھان گیا
کون جی سے نہ جائے گا اے میر
حیف یہ ہے کہ تو جوان گیا
میر تقی میر