پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے

دیوان اول غزل 516
اب کرکے فراموش تو ناشاد کروگے
پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے
زنہار اگر خستہ دلاں بے ستوں جائو
ٹک پاس ہنرمندی فرہاد کروگے
غیروں پہ اگر کھینچوگے شمشیر تو خوباں
اک اور مری جان پہ بیداد کروگے
جاگہ نہیں یاں رویئے جس پر نہ کھڑے ہو
کچھ شور ہی شر پر تو مجھے یاد کروگے
اس دشت میں اے راہرواں ہر قدم اوپر
مانند جرس نالہ و فریاد کروگے
گر دیکھوگے تم طرز کلام اس کی نظر کر
اے اہل سخن میر کو استاد کروگے
میر تقی میر