پر قلم ہاتھ جو آئی لکھے دفتر کتنے

دیوان اول غزل 553
ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے
پر قلم ہاتھ جو آئی لکھے دفتر کتنے
میں نے اس قطعۂ صناع سے سر کھینچا ہے
کہ ہر اک کوچے میں جس کے تھے ہنر ور کتنے
کشور عشق کو آباد نہ دیکھا ہم نے
ہر گلی کوچے میں اوجڑ پڑے تھے گھر کتنے
آہ نکلی ہے یہ کس کی ہوس سیر بہار
آتے ہیں باغ میں آوارہ ہوئے پر کتنے
دیکھیو پنجۂ مژگاں کی ٹک آتش دستی
ہر سحر خاک میں ملتے ہیں در تر کتنے
کب تلک یہ دل صد پارہ نظر میں رکھیے
اس پر آنکھیں ہی سیے رہتے ہیں دلبر کتنے
عمر گذری کہ نہیں دودئہ آدم سے کوئی
جس طرف دیکھیے عرصے میں ہیں اب خر کتنے
تو ہے بیچارہ گدا میر ترا کیا مذکور
مل گئے خاک میں یاں صاحب افسر کتنے
میر تقی میر