پر حیف میں نہ دیکھا بالیں سے سر اٹھا کر

دیوان چہارم غزل 1392
اس رفتہ پاس اس کو لائے تھے لوگ جا کر
پر حیف میں نہ دیکھا بالیں سے سر اٹھا کر
سن سن کے درد دل کو بولا کہ جاتے ہیں ہم
تو اپنی یہ کہانی بیٹھا ہوا کہا کر
آگے زمیں کی تہ میں ہم سے بہت تھے تو بھی
سر پر زمین اٹھالی ہم بے تہوں نے آ کر
میرے ہی خوں میں ان نے تیغہ نہیں سلایا
سویا ہے اژدہا یہ بہتیرے مجھ سے کھا کر
دل ہاتھ آگیا تھا لطف قضا سے میرے
افسوس کھو چلا ہوں ایسے گہر کو پا کر
جو وجہ کوئی ہو تو کہنے میں بھی کچھ آوے
باتیں کرو ہو بگڑی منھ کو بنا بنا کر
اب تو پھرو ہو بے غم تب میر جانیں گے ہم
اچھے رہو گے جب تم دل کو کہیں لگا کر
میر تقی میر